مسئلہ مہدویت بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اسی وجہ سے مہدویت کے دشمن بھی بہت زیادہ ہوگئے ہیں، وہابی اور گمراہ فرقے اس کے اصلی دشمن ہیں جو اس کی بہت زیادہ مخالفت کرتے ہیں اورشیعی معاشرہ میں مہدویت کے مثبت آثار سے ڈرتے ہیں ۔
ہمیں یقین ہے کہ اسلامی تعلیمات میں بہت زیادہ ایسے موارد پائے جاتے ہیں جن کو انٹرنیشنل قوانین میں بڑھایا جاسکتا ہے لہذا ضروری ہے کہ اسلامی دانشمندافراد اور دنیا کے تمام متفکرین کے درمیان انٹر نیشنل قوانین کو ثمر بخش بنانے کیلئے نزدیکی مشترکات پر عمل هو۔
شہر ریاض کے امام جمعہ کی طرف سے حضرت آیة اللہ سیستانی کی اہانت مذموم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ معظم لہ کا شمار شیعوں کے مشہور مراجع تقلید میں ہوتا ہے اور ان کی توہین ، شیعوں کے تمام مراجع اورجمہوری اسلامی ایران کی توہین ہے۔
سب کو اتحاد کی دعوت دو ، ایسا نہ ہو کہ مجالس امام حسین (علیہ السلام) سیاسی پارٹیوں کا آلہ ٴ کار بن جائیں، مجالس امام حسین (علیہ السلام) اتصال و اتحاد کا ایک حلقہ ہیں،لہذا تمام دلوں کو ایک دوسرے سے متحد ہونا چاہئے۔
تمام آگاہ و با خبر مسلمان، اعتراض کریں،بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ڈالیں اور یمن کے بے گناہ، مظلوم شیعوں کو ظالموں اور ستمگروں سے نجات و رہائی دلانے کیلئے نماز کے قنوت میں اور نماز کے بعد دعا کریں۔
افسوس کہ گذشتہ سالوں میں غیرملکی اور اجنبی خصوصامتعصب وہابیوں کے بھڑکانے سے ماحول میں کچھ کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور ان دونوں مذہبوں کے درمیان بدگمانی کے اسباب فراہم ہوگئے ہیں اور وہ پہلے والی محبت ، دوستی اور قربت کو مخدوش کردیا ہے۔
تشدد کے خاتمہ کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہم اس کی تہہ کا سراغ لگائیں، اس کی اصلی وجہ وہابیوں کے ان دینی مدارس میں چھپی ہوئی ہے جہاں صریحا یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ فقط تم مسلمان ہو بقیہ سب لوگ مشرک یا کافر ہیںان کی جان و مال حلال اور ان کا قتل واجب ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ رہبر معظم انقلاب کے حکم کے با وجود، بعض مراجع کرام نے اس دن عید کا اعلان نہیں کیا آخر اس اختلاف کی کیا وجہ ہے؟۔
بقیع کی قبروں کو منہدم کرنے کی اصل وجہ وہابیت کا اسلام کو غلط سمجھنا ہے۔
اسلامی بحثوں کی بنیاد توحید اور شرک پر متوقف ہے ، لیکن وہابی حضرات ان دونوں مسئلوں کی ایسی غلط اور بیہودہ تعریف کرتے ہیں جس سے اسلام کا کوئی واسطہ نہیں ہے ، اس مسئلہ میں دنیا کے تمام مسلمان خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت، سب ایک طرف ہیں اور یہ ایک چھوٹا سا گروہ (وہابی) ایک طرف ہے۔
اعتکاف یعنی تین دن تک خدا کے گھر میں خدا کا مہمان رہنا، تمام مادی چیزوں سے رابطہ کو منقطع کردینا ، تین دن روزے رکھنا،اور تین شب و روز اس کے ذکر، مناجات اور اس سے راز و نیاز کرنا ، اپنی گذشتہ باتوں کی طرف توجہ کرنا،غلطیوں کی اصلح کرنا اور آئندہ میں تقوی اور قداست کے ساتھ قدم رکھنے کی دعا کرنا۔
آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اتوار کے دن اپنے درس خارج سے پہلے مسجد اعظم قم میں وہابیوں کی دینی مفاہیم سے متعلق غلط تفسیر او رمخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عقلاء اور وہ لوگ جو بدعت کو ختم کرناچاہتے ہیں ان کو مذہبی مجالس سے آگاہ رہنا چاہئے تاکہ بہت سے جاہلوں کے افراطی کاموں کی وجہ سے مخالفین کو بہانہ نہ مل سکے۔
بقیع کی قبروں کو منہدم کرنے کی اصل وجہ وہابیت کا اسلام کو غلط سمجھنا ہے۔
اسلامی بحثوں کی بنیاد توحید اور شرک پر متوقف ہے ، لیکن وہابی حضرات ان دونوں مسئلوں کی ایسی غلط اور بیہودہ تعریف کرتے ہیں جس سے اسلام کا کوئی واسطہ نہیں ہے ، اس مسئلہ میں دنیا کے تمام مسلمان خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت، سب ایک طرف ہیں اور یہ ایک چھوٹا سا گروہ (وہابی) ایک طرف ہے۔