اسلامی علوم کی پیدائش اور وسعت میں شیعوں کے کردار سے متعلق کانفرنس کا کچھ دیر قبل قرآن پاک کی آیات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی ترانہ کے ساتھ شروع ہوچکی ہے ۔
قرآن مجید کی آیات کے ذریعہ کانفرنس کا آغاز ہوچکا ہے ۔
مفہوم انتظار میں سیر / انتظار کا نقطہ آغاز ، فطرت ہے / دنیا ، عدالت کے انتظار میں ہے ، عدالت، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے انتظار میں/ انتظار کی حقیقی علامت، عقلانیت/ حضرت مہدی (عج) کے ظہور کا انتظار، صلح و امنیت کے لئے نوید بخش ہے ۔
قطب دائرة زمان،وارث مسند پیغمبر(ص) ، آیات خدا وندی کے مظہر، اسرار الہی کے محرم، ہدایت کے آفتاب، منتخب پروردگار، بارہویں امام معصوم حضرت حجت بن الحسن العسکری صلوات اللہ علیہ و علی آبائہ ۱۵/شعبان ۲۵۵ ہجری کو شب جمعہ، شہر سامرامیں متولد ہوئے۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سماجی نیٹ ورک ٹیلی گرام نے اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کا احترام کرنے سے منع کردیا تھا لہذا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اپنے تمام اداروں کی کارکردگی کو سماجی نیٹ ورک ٹیلی گرام کے تمام چینلزسے ختم کرنے کا حکم صادر کیا ہے ۔
حضرت اباعبداللہ الحسین(علیہ السلام)تیسری شعبان ، چوتھی ہجری کو مدینہ میں متولد ہوئے۔
آپ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب(علیہ السلام)ہیں اور مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا(علیھاالسلام)ہیں جب امام حسین(علیہ السلام)پیدا ہوئے تو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)نے فرمایا:
یقینا قرآن کریم میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہیں ہوی ہے اور نہ ہی مستقبل میں تحریف ہوگی ، لیکن اس رسم الخط میں میں بہت زیادہ غلطیاں ہیں ، لہذا ایسا راستہ فراہم کیا جائے جس سے علمائے اسلام اس مشکل کو حل اور اصلاح کرنے کے لئے غورو فکر کریں ، اس مشکل کی وجہ سے قرآن کو غلط پڑھا جاتا ہے ، مشکلات کو برطرف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سب لوگ قرآن کریم کو صحیح طریقہ سے پڑھ سکیں ، قرآن کریم کے رسم الخط کی اصلاح کے معنی تحریف نہیں ہے اور کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔
ایک روز عباس بن عبدالمطلب یزید بن قعثب اور بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اچانک فاطمہ بنت اسد جو کہ حضرت علی (علیہ السلام) سے حاملہ تھیں، مسجد الحرام میں داخل ہوئیں
ہمیں موجودہ دنیا اور مستکبرین کے صفات سے آشنائی حاصل کرنا چاہئے ، اگر یہ آشنائی ہوجائے تو کبھی بھی دھوکہ نہیں کھائیں گے ، لیکن اگر آشنائی نہ ہو تو انسان دھوکہ کھاتا ہے ، عاقل انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے دشمن کوپہچانے اور دنیا کے مستکبرین کی اجاره داری کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو ۔
قرآن کریم نے امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ان قوموں کی ہلاکت کو دلیل کے طور پر بیان کیا ہے جنہوں نے اس فریضہ کو فراموش کردیا تھا اور بعض بنی اسرائیل نے جب اس فریضہ کو چھوڑ دیا تو حضرت عیسی اور حضرت دائود نے ان پر لعنت کی تھی ۔ اسی طرح معصومین علیہم السلام کے بیان سے استفادہ ہوتا ہے کہ اس فریضہ کی اہمیت جہاد سے زیادہ ہے ، اسی کی وجہ سے شریعت کو تقویت ملتی ہے اور اس کو انجام دینے والے زمین کے اوپر خدا کے نمائندہ اور انبیاء کے جانشین ہوتے ہیں ۔
بیت المقدس کے متعلق سلامتی کونسل کی قرار دادکے برخلاف اور بین الاقوامی تمام ملاک و معیار کے برخلاف ، امریکہ کا یہ نیا فیصلہ کہ بیت المقدس ، اسرائیل کا حصہ اور اس کی راجدھانی ہے اور امریکہ بھی اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنا چاہتا ہے ، بہت ہی غلط فیصلہ کیا جس کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں امریکہ کی طرف سے نفرت کی لہر دوڑ گئی اور آزادمنش تمام قوم و ملت اور سیاسی انسانوں نے اس کی بہت شدید مذمت کی ہے ۔
مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوطی کے ساتھ قائم رکھنے کے لئے تمام اسلامی مذاہب کو ا یک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنا ضروری ہے ، ہم کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیںگے کہ شیعہ لوگ ، اہل سنت کے مقدسات کی توہین کریں ، یا اہل سنت لوگ ، شیعوں کے مقدسات کی توہین کریں ، اس بناء پر کس بھی مذہب کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کی توہین کرے ۔
ماہ ربیع الاول کے آغاز پر بہت بڑی خوشخبری سب جگہ منتشر ہوئی ، یعنی داعش کی طاقت کی نابودی اور اس جرائم پیشہ گروہ کی قدرت کے نیست و نابود ہونے کی خبر نے ہمیں بہت زیادہ امیدوار کردیا ہے ، اس جرائم پیشہ گروہ نے پوری تاریخ میں ایسی قساوت قلبی ، بے رحمی اور درندگی سے کام لیا جس کا تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔
سپریم لیڈر حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای مدظلہ العالی کے وہ نظریات اور احکام جو مرجعیت ولی فقیہ سے متعلق ہیں وہ پوری دنیا کے شیعوں کے لئے ہیں اور کسی بھی ممالک کے شیعوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔
سائنس کی پیداوار کے متعلق جو عقب ماندگی ہے اس کی تلافی ضروری ہے ، الحمدللہ حال ہی میں جو چیز منعکس ہو رہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بہت اچھے علمی مقالات لکھے گئے ہیں اور انٹرنیشنل محافل میں ان کوقبول کرلیا گیا ہے ،ان پروگراموں کو بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھنا چاہئے ۔
امریکی چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس کوئی قدرت و طاقت نہ ہو اور اس طرح وہ ذلیل و خوار ہوجائے ، یہی وجہ ہے کہ امریکی قابل اعتماد نہیں ہیں اور آج بھی وہ ماحولیات اور یونسکو جیسے قوانین سے ایک طرفہ خارج ہو رہے ہیں ، اگر عہد و پیمان بندھا ہوا ہے تو پھر ایک طرفہ خارج ہونے کے کیا معنی ہیں ؟
یقینا اس زمانہ میں ایسی جگہ پر اتنے بلند و بالا مقصد کے لئے ایسے مرکز کی تشکیل ،بہت ہی اہم اور قیمتی کام ہے اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترقی کے لئے اس کے مثبت آثار موجود ہیں ۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کے مسئولین نے خون منتقل کرنے کی تنظیم کے تعاون سے تمام عزادارن حسینی کو ''#ایثار و فداکاری قائم و دائم ہے '' کہ عنوان سے خون ہدیہ کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ یہ سنت حسنہ جاری ہوسکے ۔
آج کی دنیا میں جبکہ بے رحم ظالم اور ستمگر ، مظلوم مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے کھڑے ہوگئے ہیں تو مظلوم قوموں کو انقلاب عاشورا سے سبق حاصل کرتے ہوئے کھڑے ہوجانا چاہئے اور دنیا سے ان کے شر کو ختم کردینا چاہئے ۔
اسلامی ممالک کب تک خاموش رہیں گے ؟ کیا اسلامی کانفرنس کمیٹی کو جس میں ٦٠ اسلامی ممالک موجود ہیں ،برما کے متعلق آواز نہیں اٹھانا چاہئے؟ اور ان مظلوموں کی حمایت نہیں کرنا چاہئے؟
مشہور روایات کی بنیاد پر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت سات ذی الحجة ١١٤ ہجری میں واقع ہوئی ہے (١) لہذا آج ان کی شہادت کے موقع پر ضروری ہے کہ ہم ان کی معرفت حاصل کرتے ہوئے ان کی تعلیمات میں کا مطالعہ کریں اور حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے اہم نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے امام علیہ السلام کے کلام کی تفسیر مخاطبین کے سامنے پیش کریں ۔
حج ، اسلام کا ایک اہم ترین رکن اور دین کا بزرگ ترین فریضہ ہے ۔ قرآن مجید نے مختصر اور بہترین عبارت میں فرمایا ہے : '' وَ لِلّه عَلَى النّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطاعَ اِلَیْهِ سَبیلاً '' ۔جن لوگوں میں اس کے گھر کی طرف جانے کی استطاعت پائی جاتی ہے ان لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے لئے اس کے گھر کا حج کریں ۔اور اس آیت کے ذیل میں فرمایا ہے : '' وَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّهَ غَنِىٌّ عَنِ الْعالَمینَ '' اور جو شخص بھی انکار کرے (اور حج کو چھوڑ دے اس نے اپنا نقصان کیا ہے ) خداوند عالم دنیا والوں سے بے نیاز ہے ۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے فتو ی کی بنیاد پر اس سال زکات فطرہ ان لوگوں کے لئے جو زیادہ گہیوں کا استعمال کرتے ہیں ، ٥٠ روپیہ معین کی گئی ہے اور جو لوگ چاول کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ان کے لئے ١٥٠ روپیہ معین کی گئی ہے ۔
روز قدس اور مسلمانوں کے اتحاد اور دشمنوں پر کامیابی کا دن ہے اور سب پر لازم ہے کہ ان مظاہروں میں شرکت کریں ۔
یقینا ہماری قوم ان گروہوں سے مقابلہ کرنے کے لئے پہلے سے زیادہ مصمم ہوگئی ہے تاکہ اس جرائم پیشہ گروہ کی جڑوں کو اکھاڑ کر پھینک سکے ۔
٢٧ مئی ٢٠١٧ بروز ہفتہ کو ایران میں ماہ مبارک رمضان کی پہلی تاریخ ہے ۔
یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ جرمن میں یعنی یوروپ کے مرکز میں ایسے پروگرام منعقد ہوتے ہیں اور کچھ بہن بھائی وہاں پر دینی علوم حاصل کرتے ہیں ، ہمیں امید ہے کہ اس طرح کے پروگرام زیادہ سے زیادہ انجام دئیے جائیں گے ۔
مصر کی عظیم عوام کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے خداوندعالم سے دعا کرتاہوں کہ وہ اس ناگوار سانحہ سے زندہ بچ جانے والے کو صبر جزیل اور زخمیوں کو شفائے کاملہ عنایت فرمائے۔
گزشتہ سال ہنگری کی پارلمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات ہوئی تھی ، ان کے دو جملہ ابھی بھی مجھے یاد ہیں ، انہوں نے کہا تھا کہ ''دہشت گردی یوروپ کے لئے ایک ناقابل حل مسئلہ بن گیا ہے '' ۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ ناقابل حل مسئلہ نہیں ہے اور اس متعلق تین راہ حل موجود ہیں ''دہشت گردی کی فکری بنیادوٹ کو ختم کردینا ''، '' سیاسی مذاکرات '' اور ''جرائم پیشہ افراد سے نمٹنا'' ۔ کیونکہ اگر ان تینوں مرحلوں پر عمل کیا جائے تو یقینا دہشت گردی ختم ہوجائے گی ۔