آپ تمام مومنین کو اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ بات بالکل جھوٹی ہے اور اس سلسلہ میں کوئی سوال اور جواب بھی پیش نہیں ہوا ہے۔
آیت الله العظمی ناصر مکارم شیرازی اور حوزهای علمیه کی جانب سے سردار رشید اسلام شهید الحاج قاسم سلیمانی و شهید ابو مهدی مهندس کی مجلس چهلم شهر مقدس قم کے حوزه علمیه امام کاظم (علیه السلام) کے رسول اعظم هال میں منعقد هوئی.
آپ کی جسمانی صحت کے متعلق تمام ہم سب پریشان ہوگئے تھے لیکن آپ کے آپریشن کی کامیابی کی خبر سن کر بہت خوشی ہوئی اور ان شاء اللہ بہت جلد آپ کی نقاہت بھی ختم ہوجائے گی ۔
وہ بہت ہی بزرگ منش ، کم نظیر اور بہت ہی خبیر انسان تھے جن کا نام دنیا اورتاریخ اسلام میں ہمیشہ بزرگ سردار کے نام سے باقی رہے گا اور ان کا راستہ بھی ہمیشہ قائم رہے گا ۔
ہم شیخ زکزاکی اور ان کی فیملی پر جو ظلم و ستم ہو رہے ہیں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں اور اس کی ذمہ دار، نیجریہ کی حکومت کو سمجھتے ہیں ۔
اس وقت جبکہ درگاہ الہی کے مقرب بندوں کی دعا اور ڈاکٹروں کی بہترین ٹیم کی کوشش سے معظم لہ کی طبیعت بالکل ٹھیک ہوگئی ہے لہذا ان تمام مومنین اور ایران و بیرون ممالک میں مرجعیت سے محبت کرنیوالوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے معظم لہ کی صحت کے لئے دعائیں کی ۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے آج صبح قم کی مسجد اعظم میں اپنے فقہ کے درس خارج کے دوران آل سعود کے جرائم کی مذمت کی جس میں انہوں نے ٣٧ مذہبی اور اجتماعی کام کرنے والے شیعوں کو جن میں کچھ علماء بھی تھے قتل کردیا تھا ۔
شیعیان بحرین کے رہبر آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے ساتھ آیت اللہ مکارم شیرازی کی ملاقات اور گفتگو ہوئی اور اس گفتگو میں عالم اسلام کی موجودہ صورت حال پر تبادل خیال کیا گیا ۔
یقینا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کے زمین پر قدم رکھتے ہی اخلاقی بحثوں کا آغاز ہوگیا تھا (١) لہذا خدا وندعالم نے حضرت آدم کو پیدا کرنے اور جنت میں جگہ دینے کے بعد ان کو اخلاقی مسائل اور اس کے احکامات سکھا دئیے تھے (٢) اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی اولاد کو ان تمام اخلاقی احکام سے آشنا کیا ۔
عرصہ دراز گزرجانے کے باوجود عاشورا کی نہ کوئی اہمیت کم ہوئی ہے اور نہ اس میں کوئی ضعف پیدا ہوا ہے بلکہ ہر سال عاشورا کے پروگرام، عزاداری اور اربعین کی رسومات کو بہت ہی عظمت و شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے ، یہ بات بتاتی ہے کہ یہ واقعہ اور انقلاب دوسرے تاریخی تمام حوادث کے برخلاف ، مادی اہداف سے تشکیل نہیں پایا ہے ۔
میں آپ سب لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کریں اور جان لیں کہ اتحاد صرف اور صرف عمل کے سایہ میں واقع ہوسکتا ہے اس اصول پر تکیہ اور ان کی تقویت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) و اہل بیت علیہم السلام کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے دشمنوں کے منصوبوں کو نابود کردیں ۔
آج کے زمانہ میں پہلے سے زیادہ ذاکری ہو رہی ہے ، اسی بناء پر ان مخصوص ایام میں بہت زیادہ توجہ اور حفاظت کی ضرورت ہے ، امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزاداری کے نام پر سیاسی کاموں اور پارٹی بازی سے پرہیز کریں، خطباء کو بھی زیادہ سے زیادہ حفاظت اور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
غدیر وہ دن ہے جب دین کامل ہوا / عیدغدیر ، عیداللہ اکبر ہے / عید غدیر کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت / عید غدیر کے دن کا غسل / عید غدیر ، انفاق، اطعام اور احسان کا دن ہے/ عید غدیر کے دن کی دعائیں ۔
اٹھارہ ذی الحجہ کو عید سعید غدیر کا دن ہے یہ عید ، عید ولایت اور امامت ہے اور اسلام کی سب سے اہم عید ہے (١) ۔ اس دن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے خداوند عالم کے حکم سے حضرت علی (علیہ السلام) کو اپنی امامت اور جانشینی کے لئے منصوب کیا ۔ یہ واقعہ ہجرت کے دسویں سال مکہ کے نزدیک ''خم'' کی سرزمین پر واقع ہوا ۔ لہذا اسی وجہ سے اس کو ''عید غدیر خم'' کہتے ہیں (٢) ۔
حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی طرف سے روانہ وفد ، حوزہ علمیہ کے بعض اساتید اور فضلاء کی موجودگی میں جمعرات بتاریخ 19 ذی قعدہ الحرام ١٤٣٩ ھ مطابق با2اگست سے معظم لہ کے بعثہ میں اپنی کارکردگی کا آغاز کرے گا۔
شبہای قدر میں شب بیداری ، اعمال اور اہل بیت علیہم السلام کے غم میں مرثیہ اور مصائب کے ساتھ ساتھ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی تقریر بھی ہوگی ۔
نبی اکرم اسلام فرماتے ہیں : '' علم زمین پر خداوندعالم کی امانت اور ودیعہ ہے اور علماء و دانشور اس کے امانتدار ہیں پس جو بھی اپنے علم پر عمل کرتا ہے اور جو کچھ اس نے سیکھا ہے اسے اجتماعی زندگی میں جاری کرتا ہے ، اس نے امانت کو ادا کردیا ہے اور جو اپنے علم پر عمل نہ کرے اس کا نام خیانت کرنے والوں کے رجسٹر میں لکھا جائے گا ۔
والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اصلاح کریں ، بچہ اپنے ماں او رباپ کی رفتار و کردار کو دیکھتا ہے اور اس کی عکاسی کرتا ہے اور ان کے تمام حرکات وسکنات بچہ کے ذہن میں بیٹھ جاتے ہیں ، جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ خود بھی متوجہ نہیں ہوتا اوران حرکات و سکنات کو دہراتا ہے ۔
اللہ کے فضل و کرم اور امام عصر (عج ) کی زیر سرپرستی میں اسلامی علوم کی پیدائش اور وسعت میں شیعوں کے کردار سے متعلق عالمی کانفرنس جو کہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دامت برکاتہ) کے حکم سے منعقد ہوئی تھی ، آج اپنے اختتامی مرحلہ میں پہنچ گئی اور اس کانفرنس نے اپنی دو سالہ کارکردگی میں حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے اساتید کے ذریعہ پچپن جلد کتابیں پیش کی ہیں اور اسلامی علوم کی پیدائش ، وسعت اور پایہ گزاری(جیسے علوم قرآن، علوم حدیث، فقہ واصول، علوم عقلی، علوم ادبی، تاریخ، علوم انسانی ، اخلاق، عرفان یہاں تک کہ علم نجوم اور طب) میں اہل بیت علیہم السلام اور شیعہ علماء کے بے نظیر کردار کو سب کے سامنے پیش کیا ہے ۔
شیعہ اور سنی دونوں نے اسلامی علوم کی بہت گرانقدر خدمتیں کی ہیں ، لیکن شیعوں کی خدمتیں اچھی طرح دنیا والوں کے سامنے متعارف نہیں ہوسکیں ۔
دین اسلام ، عورتوں کے حقوق کا بہترین حامی رہا ہے جو کہ برتری کا معیار صرف تقوی سمجھتا ہے ۔
بنگلادیشی محقق نے اسلامی انقلاب کے بنگلادیش میں ٢٠٠ شیعہ کتابوں کے منتشر ہونے کی خبر دی
اسلامی علوم کی پیدائش اور وسعت میں شیعوں کے کردار سے متعلق عالمی کانفرنس کا دوسرا دور ،قرآن پاک کی آیات کے ساتھ شروع ہوچکا ہے ۔
انقلاب کے سایہ میں حوزہ علمیہ اور جامعة المصطفی العالمیہ نے یہ ظرفیت اور طاقت حاصل کی کہ جدید علوم کے موضوعات کو ایجاد کیا ۔
بہت سے ایسے ایرانی علماء موجود تھے جنہوں نے ہندوستان سفر کیا اور ا سلامی و شیعی علوم کی وسعت میں بہت اہم کردارادا کیا ۔
امامت کے موضوع کو حضرت زہرا (علیہا السلام) نے پیش کیا اور یہ موضوع اس قدر مہم ہے کہ جس کی طرف توجہ بہت ضروری ہے اور اس سے آپ کے مرتبہ و مقام ظاہر ہوتا ہے ۔
افسوس کی بات ہے کہ دشمن شیعوں سے ڈرانے کی کوشش میں لگاہوا ہے اور اس طرح کی کانفرنس شیعہ اور اسلام کی اہمیت کو بہترین طریقہ سے پہچنوایا جاسکتا ہے اور یہ موثر بھی ثابت ہوں گی ۔
افسوس کی بات ہے کہ دوسرے ممالک کے اہم کتب خانوں اور ہمارے ملک کے بعض مسئولین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کتابوں کی فوٹو کپی ہو اور محققین ان سے استفادہ کریں ۔
آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ شیعوں کی گرانقدر اور خطی کتابیں کتب خانوں میں قید ہیں ، کہا : افسوس کی بات ہے کہ دوسرے ممالک کے اہم کتب خانوں اور ہمارے ملک کے بعض مسئولین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کتابوں کی فوٹو کپی ہو اور محققین ان سے استفادہ کریں ۔
اسلامی علوم کی پیدائش اور وسعت میں شیعوں کے کردار سے متعلق عالمی کانفرنس کے ٹکٹ کی اس کانفرس کی افتتاحی پروگرام میں دنیائے شیعہ کے دو مراجع کے ہاتھوں سے رونمائی ہوئی ۔